(1) یہ تسبیح زبان حال سے نہیں، بلکہ زبان مقال سے ہے اسی لیے فرمایا گیا ہے، وَلَكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ (بني إسرائيل: 44) ”تم ان کی تسبیح نہیں سمجھ سکتے“۔ حضرت داود (عليه السلام) کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے ساتھ پہاڑ بھی تسبیح کرتےتھے۔ (الانبیا:79) اگر یہ تسبیح حال یا تسبیح دلالت ہوتی تو حضرت داود (عليه السلام) کے ساتھ اس کو خاص کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔
(1) اس لیے وہ ان میں جس طرح چاہتا ہے تصرف فرماتاہے، اس کے سوا ان میں کسی کا حکم اور تصرف نہیں چلتا۔ یا مطلب ہے کہ بارش، نباتات اور روزیوں کے سارے خزانے اسی کی ملک میں ہیں۔
(1) وہی اول ہے یعنی اس سے پہلے کچھ نہ تھا، وہی آخر ہے، اس کے بعد کوئی چیز نہیں ہوگی، وہی ظاہر ہے یعنی وہ سب پر غالب ہے، اس پر کوئی غالب نہیں۔ وہی باطن ہے، یعنی باطن کی ساری باتوں کو صرف وہی جانتا ہے یا لوگوں کی نظروں اور عقلوں سےمخفی ہے۔ (فتح القدیر) نبی ﹲ نے اپنی صاحبزادی فاطمہ (رضی الله عنها) کو یہ دعا پڑھنے کی تاکید فرمائی تھی۔ «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِه، اللَّهُمَّ أَنْتَ الأوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ البَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَاغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ» (صحيح مسلم، كتاب الذكر والدعاء باب ما يقول عند النوم وأخذ المضجع) اس دعا میں، جو ادائیگی قرض کے لیے مسنون ہے، اول و آخر اور ظاہر وباطن کی تفسیر بیان فرما دی گئی ہے۔