(1) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل مکہ کاکفر پر اصرار بڑاگراں گزرتا تھا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام صرف اس کتاب کو بیان کر دیناہے جو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی ہے، ان کی ہدایت کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکلف نہیں ہیں۔ اگر وہ ہدایت کا راستہ اپنالیں گے تو اس میں انہی کا فائدہ ہے اور اگر ایسا نہیں کریں گے تو خود ہی نقصان اٹھائیں گے۔ وکیل کے معنی مکلف اور ذمےدار کےہیں۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ہدایت کے ذمے دار نہیں ہیں۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی ایک قدرت بالغہ اور صنعت عجیبہ کا تذکرہ فرمارہا ہے جس کا مشاہدہ ہر روز انسان کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب وہ سو جاتا ہے تو اس کی روح اللہ کے حکم سے گویا نکل جاتی ہے، کیونکہ اس کےاحساس و ادراک کی قوت ختم ہو جاتی ہے۔ اور جب وہ بیدار ہوتا ہے تو روح اس میں گویا دوبارہ بھیج دی جاتی ہے، جس سے اس کے حواس بحال ہو جاتے ہیں۔ البتہ جس کی زندگی کےدن پورے ہو چکے ہوتے ہیں، اس کی روح واپس نہیں آتی اور وہ موت سے ہمکنارہو جاتا ہے۔ اس کو بعض مفسرین نے وفات کبریٰ اور وفات صغریٰ سے بھی تعبیر کیا ہے۔
(1) یہ وفات کبریٰ ہے کہ روح قبض کرلی جاتی ہے، واپس نہیں آتی۔
(2) یعنی جن کی موت کا وقت ابھی نہیں آیا، تو سونے کے وقت ان کی روح بھی قبض کر کے انہیں وفات صغریٰ سے دوچارکردیا جاتا ہے۔
(3) یہ وہی وفات کبریٰ ہے، جس کا ابھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس میں روح روک لی جاتی ہے۔
(4) یعنی جب تک ان کا وقت موعود نہیں آتا، اس وقت تک کے لیے ان کی روحیں واپس ہوتی رہتی ہیں، یہ وفات صغریٰ ہے، یہی مضمون سورۃ الانعام: 60-61 میں بیان کیا گیا ہے، تاہم وہاں وفات صغری کا ذکرپہلے اور وفات کبریٰ کا بعد میں ہے۔ جب کہ یہاں اس کےبرعکس ہے۔
(5) یعنی یہ روح کا قبض اور اس کاارسال اورتوفی اور احیاء، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور قیامت والے دن وہ مردوں کو بھی یقیناً زندہ فرمائے گا۔
(1) یعنی شفاعت کا اختیار توکجا، انہیں تو شفاعت کے معنی و مفہوم کا بھی پتہ نہیں، کیونکہ وہ پتھر ہیں یا بےخبر۔
(1) یعنی شفاعت کی تمام اقسام کا مالک صرف اللہ ہی ہے، اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش ہی نہیں کرسکے گا، پھر صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کیوں نہ کی جائے تاکہ وہ راضی ہوجائے اور شفاعت کے لیے کوئی سہارا ڈھونڈھنےکی ضرورت ہی نہ رہے۔
(1) یا کفر اور استکبار، یا انقباض محسوس کرتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ مشرکین سے جب یہ کہا جائے کہ معبود صرف ایک ہی ہے توان کے دل یہ بات ماننے کےلیے تیار نہیں ہوتے۔
(2) ہاں جب یہ کہا جائے کہ فلاں فلاں بھی معبود ہیں، یا وہ بھی آخر اللہ کے نیک بندے ہیں، وہ بھی کچھ اختیار رکھتے ہیں، وہ بھی مشکل کشائی اور حاجت روائی کر سکتے ہیں، تو پھر مشرکین بڑے خوش ہوتے ہیں۔ منحرفین کا یہی حال آج بھی ہے۔ جب ان سے کہا جائے کہ صرف (یااللہ مدد) کہو، کیونکہ اس کے سوا کوئی مدد کرنے پر قادر نہیں ہے، تو سیخ پا ہو جاتےہیں، یہ جملہ ان کےلیے سخت ناگوار ہوتا ہے۔ لیکن جب ”یا علی مدد“ یا ”یا رسول اللہ مدد“ کہا جائے، اسی طرح دیگر مردوں سے استمداد و استغاثہ کیاجائے مثلاً ”یا شیخ عبدالقادر شیئا للہ“ وغیرہ تو پھر ان کے دل کی کلیاں کھل اٹھتی ہیں۔ فَتَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ۔
(1) حدیث میں آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کی نماز کے آغاز میں یہ پڑھا کرتے تھے ”اللَّهُمَّ رَبَّ جَبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِما اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقيِمٍ“ (صحيح مسلم، كتاب صلاة المسافرين باب الدعاء في صلاة الليل وقيامه)۔
(1) لیکن پھر بھی وہ قبول نہیں ہوگا، جیساکہ دوسرےمقام پروضاحت ہے۔ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ (آل عمران: 91) ”وہ زمین بھر سونا بھی بدلے میں دے دیں، تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا“۔ اس لیے کہ وَلا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ (البقرة: 48) ”وہاں معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا“۔
(2) یعنی عذاب کی شدت اور اس کی ہولناکیاں اور اس کی انواع و اقسام ایسی ہوں گی کہ کبھی ان کے گمان میں نہ آئی ہوں گی۔