Fassarar Ma'anonin Alqura'ni - Fassarar Urdu - Muhammad Jonakiri

Lambar shafi:close

external-link copy
41 : 39

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ ۚ— فَمَنِ اهْتَدٰی فَلِنَفْسِهٖ ۚ— وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا ۚ— وَمَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ ۟۠

آپ پر ہم نے حق کے ساتھ یہ کتاب لوگوں کے لیے نازل فرمائی ہے، پس جو شخص راه راست پر آجائے اس کے اپنے لیے نفع ہے اور جو گمراه ہوجائے اس کی گمراہی کا (وبال) اسی پر ہے، آپ ان کے ذمہ دار نہیں.(1) info

(1) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل مکہ کاکفر پر اصرار بڑاگراں گزرتا تھا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام صرف اس کتاب کو بیان کر دیناہے جو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی ہے، ان کی ہدایت کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکلف نہیں ہیں۔ اگر وہ ہدایت کا راستہ اپنالیں گے تو اس میں انہی کا فائدہ ہے اور اگر ایسا نہیں کریں گے تو خود ہی نقصان اٹھائیں گے۔ وکیل کے معنی مکلف اور ذمےدار کےہیں۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ہدایت کے ذمے دار نہیں ہیں۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی ایک قدرت بالغہ اور صنعت عجیبہ کا تذکرہ فرمارہا ہے جس کا مشاہدہ ہر روز انسان کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب وہ سو جاتا ہے تو اس کی روح اللہ کے حکم سے گویا نکل جاتی ہے، کیونکہ اس کےاحساس و ادراک کی قوت ختم ہو جاتی ہے۔ اور جب وہ بیدار ہوتا ہے تو روح اس میں گویا دوبارہ بھیج دی جاتی ہے، جس سے اس کے حواس بحال ہو جاتے ہیں۔ البتہ جس کی زندگی کےدن پورے ہو چکے ہوتے ہیں، اس کی روح واپس نہیں آتی اور وہ موت سے ہمکنارہو جاتا ہے۔ اس کو بعض مفسرین نے وفات کبریٰ اور وفات صغریٰ سے بھی تعبیر کیا ہے۔

التفاسير:

external-link copy
42 : 39

اَللّٰهُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا ۚ— فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰی عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ الْاُخْرٰۤی اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ— اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ ۟

اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت(1) اور جن کی موت نہیں آئی انہیں ان کی نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے(2)، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے(3) اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے(4)۔ غور کرنے والوں کے لیے اس میں یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں.(5) info

(1) یہ وفات کبریٰ ہے کہ روح قبض کرلی جاتی ہے، واپس نہیں آتی۔
(2) یعنی جن کی موت کا وقت ابھی نہیں آیا، تو سونے کے وقت ان کی روح بھی قبض کر کے انہیں وفات صغریٰ سے دوچارکردیا جاتا ہے۔
(3) یہ وہی وفات کبریٰ ہے، جس کا ابھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس میں روح روک لی جاتی ہے۔
(4) یعنی جب تک ان کا وقت موعود نہیں آتا، اس وقت تک کے لیے ان کی روحیں واپس ہوتی رہتی ہیں، یہ وفات صغریٰ ہے، یہی مضمون سورۃ الانعام: 60-61 میں بیان کیا گیا ہے، تاہم وہاں وفات صغری کا ذکرپہلے اور وفات کبریٰ کا بعد میں ہے۔ جب کہ یہاں اس کےبرعکس ہے۔
(5) یعنی یہ روح کا قبض اور اس کاارسال اورتوفی اور احیاء، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور قیامت والے دن وہ مردوں کو بھی یقیناً زندہ فرمائے گا۔

التفاسير:

external-link copy
43 : 39

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ ؕ— قُلْ اَوَلَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْـًٔا وَّلَا یَعْقِلُوْنَ ۟

کیا ان لوگوں نے اللہ تعالی کے سوا (اوروں) کو سفارشی مقرر کر رکھا ہے؟ آپ کہہ دیجیئے! کہ گو وه کچھ بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں.(1) info

(1) یعنی شفاعت کا اختیار توکجا، انہیں تو شفاعت کے معنی و مفہوم کا بھی پتہ نہیں، کیونکہ وہ پتھر ہیں یا بےخبر۔

التفاسير:

external-link copy
44 : 39

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا ؕ— لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ— ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ ۟

کہہ دیجئے! کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے(1) ۔ تمام آسمانوں اور زمین کا راج اسی کے لیے ہے تم سب اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے. info

(1) یعنی شفاعت کی تمام اقسام کا مالک صرف اللہ ہی ہے، اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش ہی نہیں کرسکے گا، پھر صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کیوں نہ کی جائے تاکہ وہ راضی ہوجائے اور شفاعت کے لیے کوئی سہارا ڈھونڈھنےکی ضرورت ہی نہ رہے۔

التفاسير:

external-link copy
45 : 39

وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ ۚ— وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ ۟

جب اللہ اکیلے کا ذکر کیا جائے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں(1) جو آخرت کایقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا (اور کا) ذکر کیا جائے تو ان کے دل کھل کر خوش ہو جاتے ہیں.(2) info

(1) یا کفر اور استکبار، یا انقباض محسوس کرتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ مشرکین سے جب یہ کہا جائے کہ معبود صرف ایک ہی ہے توان کے دل یہ بات ماننے کےلیے تیار نہیں ہوتے۔
(2) ہاں جب یہ کہا جائے کہ فلاں فلاں بھی معبود ہیں، یا وہ بھی آخر اللہ کے نیک بندے ہیں، وہ بھی کچھ اختیار رکھتے ہیں، وہ بھی مشکل کشائی اور حاجت روائی کر سکتے ہیں، تو پھر مشرکین بڑے خوش ہوتے ہیں۔ منحرفین کا یہی حال آج بھی ہے۔ جب ان سے کہا جائے کہ صرف (یااللہ مدد) کہو، کیونکہ اس کے سوا کوئی مدد کرنے پر قادر نہیں ہے، تو سیخ پا ہو جاتےہیں، یہ جملہ ان کےلیے سخت ناگوار ہوتا ہے۔ لیکن جب ”یا علی مدد“ یا ”یا رسول اللہ مدد“ کہا جائے، اسی طرح دیگر مردوں سے استمداد و استغاثہ کیاجائے مثلاً ”یا شیخ عبدالقادر شیئا للہ“ وغیرہ تو پھر ان کے دل کی کلیاں کھل اٹھتی ہیں۔ فَتَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ۔

التفاسير:

external-link copy
46 : 39

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ ۟

آپ کہہ دیجئے! کہ اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، چھپے کھلے کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں میں ان امور کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وه الجھ رہے تھے.(1) info

(1) حدیث میں آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کی نماز کے آغاز میں یہ پڑھا کرتے تھے ”اللَّهُمَّ رَبَّ جَبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِما اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقيِمٍ“ (صحيح مسلم، كتاب صلاة المسافرين باب الدعاء في صلاة الليل وقيامه)۔

التفاسير:

external-link copy
47 : 39

وَلَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّمِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ ؕ— وَبَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ ۟

اگر ﻇلم کرنے والوں کے پاس وه سب کچھ ہو جو روئے زمین پر ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو، تو بھی بدترین سزا کے بدلے میں قیامت کے دن یہ سب کچھ دے دیں(1) ، اور ان کے سامنے اللہ کی طرف سے وه ﻇاہر ہوگا جس کا گمان بھی انہیں نہ تھا.(2) info

(1) لیکن پھر بھی وہ قبول نہیں ہوگا، جیساکہ دوسرےمقام پروضاحت ہے۔ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ (آل عمران: 91) ”وہ زمین بھر سونا بھی بدلے میں دے دیں، تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا“۔ اس لیے کہ وَلا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ (البقرة: 48) ”وہاں معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا“۔
(2) یعنی عذاب کی شدت اور اس کی ہولناکیاں اور اس کی انواع و اقسام ایسی ہوں گی کہ کبھی ان کے گمان میں نہ آئی ہوں گی۔

التفاسير: