Kur'an-ı Kerim meal tercümesi - Urduca Tercüme - Muhammed Conakri

Sayfa numarası:close

external-link copy
11 : 39

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَ ۟ۙ

آپ کہہ دیجئے! کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے عبادت کو خالص کر لوں. info
التفاسير:

external-link copy
12 : 39

وَاُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ ۟

اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا فرماں بردار بن جاؤں.(1) info

(1) پہلا اس معنی میں کہ آبائی دین کی مخالفت کرکے توحید کی دعوت سب سے پہلے آپ ہی نے پیش کی۔

التفاسير:

external-link copy
13 : 39

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۟

کہہ دیجئے! کہ مجھے تو اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے بڑے دن کے عذاب کا خوف لگتا ہے. info
التفاسير:

external-link copy
14 : 39

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْ ۟ۙۚ

کہہ دیجئے! کہ میں تو خالص کر کے صرف اپنے رب ہی کی عبادت کرتا ہوں. info
التفاسير:

external-link copy
15 : 39

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ ؕ— قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَاَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ ؕ— اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ۟

تم اس کے سوا جس کی چاہو عبادت کرتے رہو کہہ دیجئے! کہ حقیقی زیاں کار وه ہیں جو اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو قیامت کے دن نقصان میں ڈال دیں گے، یاد رکھو کہ کھلم کھلا نقصان یہی ہے. info
التفاسير:

external-link copy
16 : 39

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ ؕ— ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ ؕ— یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ ۟

انہیں نیچے اوپر سے آگ کے (شعلے مثل) سائبان (کے) ڈھانک رہے ہوں گے(1) ۔ یہی (عذاب) ہے جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے(2)، اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرتے رہو. info

(1) ظُلَلٌ، ظُلَّةٌ کی جمع ہے، سایہ۔ یہاں اطباق النار مراد ہیں، یعنی ان کے اوپر نیچے آگ کے طبق ہوں گے، جو ان پر بھڑک رہے ہوں گے۔ (فتح القدیر)۔
(2) یعنی یہی مذکور خسران مبین اور عذاب ظلل ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تاکہ وہ اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار کرکے اس انجام بد سے بچ جائیں۔

التفاسير:

external-link copy
17 : 39

وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَاَنَابُوْۤا اِلَی اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰی ۚ— فَبَشِّرْ عِبَادِ ۟ۙ

اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور (ہمہ تن) اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے وه خوش خبری کے مستحق ہیں، میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے. info
التفاسير:

external-link copy
18 : 39

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ ؕ— اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ ۟

جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں۔ پھر جو بہترین بات ہو(1) اس کی اتباع کرتے ہیں۔ یہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے اور یہی عقلمند بھی ہیں.(2) info

(1) أَحْسَنُ سے مراد محکم اور پختہ بات، یا مامورات میں سے سب سے اچھی بات، یا عزیمت ورخصت میں سے عزیمت یا عقوبت کے مقابلے میں عفو ودرگزر اختیار کرتے ہیں۔
(2) کیوں کہ انہوں نے اپنی عقل سے فائدہ اٹھایا ہے، جب کہ دوسروں نے اپنی عقلوں سے فائدہ نہیں اٹھایا۔

التفاسير:

external-link copy
19 : 39

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ ؕ— اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِ ۟ۚ

بھلا جس شخص پر عذاب کی بات ﺛابت ہو چکی ہے(1) ، تو کیا آپ اسے جو دوزخ میں ہے چھڑا سکتے ہیں؟(2) info

(1) یعنی قضا وتقدیر کی رو سے اس کا استحقاق عذاب ثابت ہو چکا ہے، اس طرح کہ کفر وظلم اور جرم وعدوان میں وہ اپنی انتہا کو پہنچ گیا، جہاں سے اس کی واپسی ممکن نہیں رہی۔ جیسے ابوجہل اور عاص بن وائل وغیرہ۔ اور گناہوں نے اس کو پوری طرح گھیر لیا اور وہ جہنمی ہوگیا۔
(2) نبی ﹲ چونکہ اس بات کی شدید خواہش رکھتےتھے کہ آپ کی قوم کے سب لوگ ایمان لے آئیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﹲ کو تسلی دی اور آپ کو بتلایا کہ آپ کی خواہش اپنی جگہ بالکل صحیح اور بجا ہے لیکن جس پر اس کی تقدیر غالب آگئی اور اللہ کا کلمہ اس کے حق میں ثابت ہوگیا، اسے آپ جہنم کی آگ سے بچانے پرقادر نہیں ہیں۔

التفاسير:

external-link copy
20 : 39

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ ۙ— تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ؕ۬— وَعْدَ اللّٰهِ ؕ— لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ ۟

ہاں وه لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے باﻻ خانے ہیں جن کے اوپر بھی بنے بنائے باﻻ خانے ہیں(1) (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ رب کا وعده ہے(2) اور وه وعده خلافی نہیں کرتا. info

(1) اس کا مطلب ہے کہ جنت میں درجات ہوں گے، ایک کے اوپر ایک۔ جس طرح یہاں کثیرالمنازل عمارتیں ہیں، جنت میں بھی درجات کے حساب سے ایک دوسرے کے اوپر بالا خانے ہوں گے، جن کے درمیان سے اہل جنت کی خواہش کے مطابق دودھ، شہد، پانی اور شراب کی نہریں چل رہی ہوں گی۔
(2) جو اس نے اپنے مومن بندوں سے کیا ہے اور جو یقیناً پورا ہوگا، کہ اللہ سے وعدہ خلافی ممکن نہیں۔

التفاسير:

external-link copy
21 : 39

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا ؕ— اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰی لِاُولِی الْاَلْبَابِ ۟۠

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اسے زمین کی سوتوں میں پہنچاتا(1) ہے، پھر اسی کے ذریعہ سے مختلف قسم کی کھیتیاں اگاتا(2) ہے پھر وه خشک ہو جاتی ہیں اور آپ انہیں زرد رنگ دیکھتے ہیں پھر انہیں ریزه ریزه کر دیتا ہے(3)، اس میں عقل مندوں کے لئے بہت زیاده نصیحت ہے.(4) info

(1) يَنَابِيعُ يَنْبُوعٌ کی جمع ہے، سوتے، چشمے، یعنی بارش کے ذریعے سےپانی آسمان سےاترتا ہے، پھر وہ زمین میں جذب ہو جاتا ہے اور پھر چشموں کی صورت میں نکلتا ہے یا تالابوں اور نہروں میں جمع ہو جاتا ہے۔
(2) یعنی اس پانی سے، جو ایک ہوتا ہے، انواع واقسام کی چیزیں پیدا فرماتا ہے، جن کا رنگ، ذائقہ، خوشبو ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔
(3) یعنی شادابی اور تروتازگی کے بعد وہ کھیتیاں سوکھ جاتی اور زرد ہو جاتی ہیں اور پھر ریزہ ریزہ ہو جاتی ہیں۔ جس طرح لکڑی کی ٹہنیاں خشک ہو کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔
(4) یعنی اہل دانش اس سے سمجھ لیتے ہیں کہ دنیا کی مثال بھی اسی طرح ہے، وہ بہت جلد زوال وفنا سے ہمکنار ہو جائے گی۔ اس کی رونق وبہجت، اس کی شادابی وزینت اور اس کی لذتیں اور آسائشیں عارضی ہیں، جن سے انسان کو دل نہیں لگانا چاہئیے۔ بلکہ اس موت کی تیاری میں مشغول رہنا چاہئیے جس کے بعد کی زندگی دائمی ہے، جسے زوال نہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ قرآن اور اہل ایمان کے سینوں کی مثال ہے اور مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے قرآن اتارا، جسے وہ مومنوں کے دلوں میں داخل فرماتا ہے، پھر اس کے ذریعے سے دین باہر نکلتا ہے جو ایک دوسرے سے بہتر ہوتا ہے، پس مومن تو ایمان ویقین میں زیادہ ہو جاتا ہے اور جس کے دل میں روگ ہوتا ہے، وہ اس طرح خشک ہو جاتا ہے جس طرح کھیتی خشک ہو جاتی ہے۔(فتح القدیر)۔

التفاسير: