(1) یہ واقعہ سورۂ احقاف:29 کے حاشیہ میں گزر چکا ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) وادی نخلہ صحابہ کرام کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ کچھ جنوں کا وہاں سے گزر ہوا تو انہوں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کا قرآن سنا۔ جس سے وہ متاثر ہوئے۔ یہاں بتلایا جا رہا ہے کہ اس وقت جنوں کا قرآن سننا، آپ کے علم میں نہیں آیا، بلکہ وحی کے ذریعے سے ان کو اس سے آگاہ فرمایا گیا۔
(2) عجبا 'مصدر ہے بطور مبالغہ یا مضاف محذوف ہے ۔ذا عجب یا مصدر اسم فاعل کے معنی ہے معجبا مطلب کہ ہم نے ایسا قرآن سنا ہے جو فصاحت و بلاغت میں بڑا عجیب ہے یا مواعظ کے اعتبار سے عجیب ہے یا برکت کے لحاظ نہایت تعجب انگیز ہے ۔(فتح القدیر)
(1) یہ قرآن کی دوسری صفت ہے کہ وہ راہ راست یعنی حق کو واضح کرتا ہے یا اللہ کی معرفت عطا کرتا ہے۔
(2) یعنی ہم نے سن کر اس بات کی تصدیق کر دی کہ واقعی یہ اللہ کا کلام ہے کسی انسان کا نہیں اس میں کفار کو توبیخ وتنبیہ ہے کہ جن تو ایک مرتبہ ہی سن کر قرآن پر ایمان لے آئے 'تھیڑی سی آیات دن کر ہی ان کا کایا پلٹ گئی اور وہ یہ بھی سمجھ گئے کہ یہ کسی انسان کا بنایا ہواکلام نہیں ہےلیکن انسانوں کو، خاص کر ان کے سرداروں کو اس قرآن سے کوئی فائدہ نہیں ہوا حالانکہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی زبان مبارک سے متعدد بار انہوں نے قرآن سنا۔ علاوہ ازیں خو د آپ (صلى الله عليه وسلم) بھی ان ہی میں سے تھے اور ان ہی کی زبان میں آپ ان کو قرآن سناتے تھے۔
(3) نہ مخلوق میں سے نہ کسی اور معبود کو اس لیے کہ وہ اپنی ربوبیت میں متفرد ہے۔
(1) جد کے معنی عظمت وجلال کے ہیں یعنی ہمارے رب کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ اس کی اولاد یا بیوی ہو۔ گویا جنوں نے ان مشرکوں کی غلطی کو واضح کیا جو اللہ کی طرف بیوی یا اولاد کی نسبت کرتے تھے، انہوں نے ان دونوں کمزویوں سے ربکی تنزیہ و تقدیس کی۔
(1) سَفِيهُنَا (ہمارے بےوقوف) سے بعض نے شیطان مراد لیا ہے اور بعض نے ان کے ساتھی جن اور بعض نے بطور جنس؛ یعنی ہر وہ شخص جو یہ گمان باطل رکھتا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے۔ شَطَطًا کے کئ معنی کئے گئے ہیں، ظلم، جھوٹ، باطل، کفر میں مبالغہ وغیرہ۔ مقصد، راہ اعتدال سے دوری اور حد سے تجاوز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بات کہ اللہ کی اولاد ہے ان بےوقوفوں کی بات ہے جو راہ اعتدال سے دور، حد متجاوز اور کاذب و افترا پرداز ہیں۔
(1) اسی لئے ہم اس کی تصدیق کرتے رہے اور اللہ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھے رہے۔ حتٰی کہ ہم نے قرآن سنا تو پھر ہم پر اس عقیدے کا باطل ہونا واضح ہوا۔
(1) زمانہ جاہلیت میں ایک رواج یہ بھی تھا کہ وہ سفر پر کہیں جاتےتو جس وادی یں قیام کرتے'وہاںھنات سے پناہ طلب کرتے 'جیسے علاقے کے بڑے آدمی اور رئیس سے پناہ طلب کی جاتی ہے ۔اسلام نے اس کو ختم کیا اور صرف ایک اللہ سے پناہ طلب کرنے کی تاکید کی۔
(2) یعنی جب جنات نے یہ دیکھا کہ انسان ہم سے ڈرتے ہیں اور ہماری پناہ طلب کرتے ہیں تو ان کی سرکشی اور تکبر میں اضافہ ہوگیا۔رھقا، یہاں سرکشی ،طغیانی اور تکبر کے مفہوم میں ہے ۔اس کے اصل معنی ہیں گناہ اور محارم کو ڈانکھنا یعنی ان کا ارتکاب کرنا۔
(1) حَرَسٌ، حَارِسٌ (چوکیدارنگران)کی اور شُهُبٌ، شِهَابٌ (شعلہ)کی جمع ہے یعنی آسمانوں پر فرشتے چوکیداری کرتے ہیں کہ آسمانوں کی کوئی بات کوئی اور نہ سن لے اور یہ ستارے آسمان پر جانے والے شیاطین پر شعلہ بن کر گرتے ہیں۔
(1) اور آسمانی باتوں کی کچھ گن سن پا کر کاہنوں کو بتلا دیا کرتے تھے جس میں وہ اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا دیا کرتے تھے۔
(2) لیکن بعثت محمدیہ کے بعد یہ سلسلہ بند کر دیا گیا، اب جو بھی اس نیت سے اوپر جاتا ہے، شعلہ اس کی تاک میں ہوتا ہے اور ٹوٹ کر اس پر گرتا ہے۔
(1) یعنی اس حراست آسمانی سے مقصد اہل زمین کے لئے کسی شر کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہچانا یعنی ان پر عذاب نازل کرنا یا بھلائی کا ارادہ یعنی رسول کا بھیجنا ہے۔
(1) قِدَدٌ چیز کا ٹکڑا(صَارَ القَوْمُ قِدَدًا) 'اس وقت بولتے ہیں جب ان کے احوال ایک دوسرے سے مختلف ہوں ،یعنی ہم متفرق جماعتوں میں بٹے ہوئے ہیں مطلب یہ کہ جنات میں بھی مسلمان، کافر، یہودی، عیسائی، مجوسی وغیرہ ہیں، بعض کہتے ہیں ان میں بھی مسلمانوں کی طرح قدریہ، مرحبئہ اور رافضہ و غیرہ ہیں (فتح القدیر)
(1) یعنی نہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ ان کی نیکیوں کے اجر و ثواب میں کوئی کمی کر دی جائے گی اور نہ اس بات کا خوف کہ ان کی برائیوں میں اضافہ ہو جائے گا۔