કુરઆન મજીદના શબ્દોનું ભાષાંતર - ઉર્દુ ભાષામાં અનુવાદ - મુહમ્મદ જૂનાગઢી

પેજ નંબર:close

external-link copy
68 : 39

وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ ؕ— ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰی فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ ۟

اور صور پھونک دیا جائے گا پس آسمانوں اور زمین والے سب بے ہوش ہوکر گر پڑیں گے(1) مگر جسے اللہ چاہے(2)، پھر دوباره صور پھونکا جائے گا پس وه ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے.(3) info

(1) بعض کےنزدیک (نفخۂ فزع کے بعد) یہ نفخۂ ثانیہ یعنی نفخۂ صعق ہے،جس سے سب کی موت واقع ہو جائے گی۔ بعض کےنزدیک یہ نفخۂ اولیٰ ہی ہے، اس سے اولاً سخت گھبراہٹ طاری ہو گی اور پھر سب کی موت واقع ہو جائے گی۔ بعض نے ان نفخات کی ترتیب اس طرح بیان کی ہے۔ پہلا نَفْخَةُ الفَنَاءِ۔ دوسرا نَفْخَةُ الْبَعْثِ۔ تیسرا نَفْخَةُ الصَّعْقِ۔ چوتھا نَفْخَةُ الْقِيَامِ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ۔ (ایسر التفاسیر) بعض کے نزدیک صرف دو ہی نفخے ہیں نَفْخَةُ الْمَوْتِ اور نَفْخَةُ الْبَعْثِ اوربعض کے نزدیک تین۔ وَاللهُ أَعْلَمُ۔
(2) یعنی جن کو اللہ چاہے گا،ان کو موت نہیں آئے گی، جیسے جبرائیل، میکائل اور اسرافیل۔ بعض کہتےہیں رضوان فرشتہ، حَمَلَةُ الْعَرْشِ (عرش اٹھانے والے فرشتے) اور جنت و جہنم پر مقرر داروغے۔ (فتح القدیر)۔
(3) چار نفخوں کے قائلین کےنزدیک یہ چوتھا، تین کے قائلین کےنزدیک تیسرا اور دو کے قائلین کےنزدیک یہ دوسرا نفخہ ہے۔ بہرحال اس نفخے سے سب سے زندہ ہوکرمیدان محشر میں رب العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہوجائیں گے، جہاں حساب کتاب ہوگا۔

التفاسير:

external-link copy
69 : 39

وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَالشُّهَدَآءِ وَقُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ۟

اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اٹھے گی(1) ، نامہٴ اعمال حاضر کیے جائیں گے نبیوں اور گواہوں کو ﻻیا جائے گا(2) اور لوگوں کے درمیان حق حق فیصلے کر دیے جائیں گے، اور وه ﻇلم نہ کیے جائیں گے.(3) info

(1) اس نور سے بعض نےعدل اور بعض نے حکم مراد لیا ہے لیکن اسے حقیقی معنوں پر محمول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے، کیونکہ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ (قَالَهُ الشَّوْكَانِيُّ فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ)۔
(2) نبیوں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے میرا پیغام اپنی اپنی امتوں کوپہنچایا دیا تھا؟ یا یہ پوچھا جائے گا کہ تمہاری امتوں نے تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا، اسے قبول کیا یا اس کا انکار کیا؟ امت محمدیہ کو بطور گواہ لایا جائے گا جو اس بات کی گواہی دے گی کہ تیرے پیغمبروں نے تیرا پیغام اپنی اپنی قوم یا امت کوپہنچا دیا تھا، جیساکہ تو نے ہمیں اپنے قرآن کے ذریعے سے ان امور پرمطلع فرمایاتھا۔
(3) یعنی کسی اجر وثواب میں کمی نہیں ہوگی اورکسی کواس کے جرم سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی۔

التفاسير:

external-link copy
70 : 39

وَوُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ ۟۠

اور جس شخص نے جو کچھ کیا ہے بھرپور دے دیا جائے گا، جو کچھ لوگ کر رہے ہیں وه بخوبی جاننے واﻻ ہے.(1) info

(1) یعنی اس کو کسی کا تب،حاسب اور گواہ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ اعمال نامے اور گواہ صرف بطور حجت اور قطع معذرت کے ہوں گے۔

التفاسير:

external-link copy
71 : 39

وَسِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰی جَهَنَّمَ زُمَرًا ؕ— حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَیُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا ؕ— قَالُوْا بَلٰی وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَی الْكٰفِرِیْنَ ۟

کافروں کے غول کے غول جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے(1) ، جب وه اس کے پاس پہنچ جائیں گے اس کے دروازے ان کے لیے کھول دیے جائیں گے(2)، اور وہاں کے نگہبان ان سے سوال کریں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں درست(3) ہے لیکن عذاب کا حکم کافروں پر ﺛابت ہو گیا.(4) info

(1) زُمَرٌ زَمْرٌ سے مشتق ہے بمعنی آواز ، ہر گروہ یا جماعت میں شور اور آوازیں ضرور ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ جماعت اور گروہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، مطلب ہے کہ کافروں کو جہنم کی طرف گروہوں کی شکل میں لے جایا جائے گا، ایک گروہ کےپیچھے ایک گروہ۔ علاوہ ازیں انہیں مار دھکیل کر جانوروں کے ریوڑ کی طرح ہنکایا جائے گا۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا، يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا (الطور: 13) یعنی انہیں جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جائےگا۔
(2) یعنی ان کے پہنچتے ہی فوراً جہنم کے ساتوں دروازے کھول دیے جائیں گے تاکہ سزا میں تاخیر نہ ہو۔
(3) یعنی جس طرح دنیا میں بحث و تکرار اور جدل ومناظرہ کرتے تھے، وہاں سب کچھ آنکھوں کے سامنے آجانے کے بعد، بحث و جدال کی گنجائش ہی باقی نہ رہے گی، اس لیے اعتراف کیے بغیر چارہ نہیں ہوگا۔
(4) یعنی ہم نے پیغمبروں کی تکذیب اورمخالفت کی، اس شقاوت کی وجہ سے جس کے ہم مستحق تھے، جب کہ ہم نے حق سے گریز کر کے باطل کو اختیار کیا، اس مضمون کو سورۃ الملک: 8-10 میں زیادہ وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔

التفاسير:

external-link copy
72 : 39

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا ۚ— فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَكَبِّرِیْنَ ۟

کہا جائے گا کہ اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ جہاں ہمیشہ رہیں گے، پس سرکشوں کا ٹھکانا بہت ہی برا ہے. info
التفاسير:

external-link copy
73 : 39

وَسِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَی الْجَنَّةِ زُمَرًا ؕ— حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوْهَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ ۟

اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کے گروه کے گروه جنت کی طرف روانہ کیے جائیں(1) گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آ جائیں گے(2) اور دروازے کھول دیے جائیں گے اور وہاں کے نگہبان ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم خوش حال رہو تم اس میں ہمیشہ کے لیے چلے جاؤ. info

(1) اہل ایمان و تقویٰ بھی گروہوں کی شکل میں جنت کی طرف لے جائے جائیں گے، پہلے مقربین، پھر ابرار، اس طرح درجہ بدرجہ، ہر گروہ ہم مرتبہ لوگوں پر مشتمل ہوگا۔ مثلاً انبیاء علیہم السلام، انبیاء علیہم السلام کےساتھ صدیقین شہداء اپنے ہم جنسوں کے ساتھ، علماء اپنے اقران کے ساتھ، یعنی ہر صنف اپنی ہی صنف یا اس کی مثل کے ساتھ ہوگی۔ (ابن کثیر)
(2) حدیث میں آتا ہے، جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں سے ایک ریان ہے، جس سے صرف روزے دار داخل ہوں گے۔ (صحیح بخاری، نمبر 2257۔ مسلم، نمبر 808) اسی طرح دوسرے دروازوں کے نام بھی ہوں گے، جیسے باب الصلوٰۃ، باب الصدقہ، باب الجھاد وغیرہ (صحيح بخاري، كتاب الصيام، مسلم، كتاب الزكاة) ہر دروازے کی چوڑائی چالیس سال کی مسافت کے برابرہوگی، اس کے باوجود یہ بھرے ہوئے ہوں گے۔ (صحيح مسلم كتاب الزهد) سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹانے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے۔ (مسلم كتاب الإيمان، باب أنا أول الناس يشفع) جنت میں سب سےپہلے جانے والے گروہ کے چہرے پر چودھویں رات کے چاند کی طرح اور دوسرے گروہ کےچہرے پر آسمان پر چمکنے والے ستاروں میں سے روشن ترین ستارے کی طرح چمکتےہوں گے۔ جنت میں وہ بول و براز اور تھوک، بلغم سے پاک ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی اور پسینہ کستوری ہوگا، ان کی انگیٹھیوں میں خوشبودار لکڑی ہو گی، ان کی بیویاں الحور العین ہوں گی، ان کا قد آدم (عليه السلام) کی طرح ساٹھ ہاتھ ہوگا۔ (صحيح بخاري، أول كتاب الأنبياء) صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مومن کو دو بیویاں ملیں گی، ان کے حسن و جمال کایہ حال ہوگا کہ ان کی پندلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا۔ (كتاب بدء الخلق ، باب ما جاء في صفة الجنة) بعض نے کہا یہ دو بیویاں حوروں کے علاوہ، دنیاکی عورتوں میں سے ہوں گی۔ لیکن چونکہ 72 حوروں والی روایت سنداً صحیح نہیں۔ اس لیے بظاہر یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ ہر جنتی کی کم از کم حور سمیت دو بیویاں ہوگی۔ تاہم وَلَهُمْ فِيهَا مَا يَشْتَهُونَ کے تحت زیادہ بھی ممکن ہیں۔ واللہ اعلم (مزید دیکھئے فتح الباری۔ باب مذکور)

التفاسير:

external-link copy
74 : 39

وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ ۚ— فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ ۟

یہ کہیں گے کہ اللہ کاشکر ہے کہ جس نے ہم سے اپنا وعده پورا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں پس عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا بدلہ ہے. info
التفاسير: