(1) ”سُقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ“ محاورہ ہے جس کے معنی نادم ہونا ہیں، یہ ندامت موسیٰ (عليه السلام) کی واپسی کے بعد ہوئی، جب انہوں نے آکر اس پر ان کی زجرو توبیخ کی، جیسا کہ سورۂ طٰہ میں ہے۔ یہاں اسے مقدم اس لیے کر دیا گیا ہے کہ ان کا فعل اور قول اکٹھا ہو جائے۔ ( فتح القدیر)